2 اکتوبر 2013 - 20:30

آیت اللہ العظی ناصر مکارم شیرازی نے کہا: دشمن ایک طرف بیٹھے ہوئے ہیں اور ہمیں ایک دوسرے کے خلاف لڑا رہے ہیں اور تکفیری گروپوں کو فتنوں کی آگ کے شعلے تیز کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں

اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق مرجع تقلید اور حوزہ علمیہ قم کے استاد حضرت آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی نے کل (بدھ 3 اکتوبر 2013 کو) قم المشرفہ کے مدرسہ امام سجاد(ع) میں "اسلام، مسلمین اور اور بنی نوع انسان کے لئے تکفیری تفکرات کے خطرات" کانفرنس کی افتتاحی نشست سے خطاب کرتے ہوئے کہا: اس وقت اسلام کو تکفیری تفکرات کے پیروکار گروہوں کے خطرے جتنا بڑا خطرہ  کوئی خطرہ درپیش نہیں ہے۔ آیت اللہ العظی ناصر مکارم شیرازی نے کہا: دشمن ایک طرف بیٹھے ہوئے ہیں اور ہمیں ایک دوسرے کے خلاف لڑا رہے ہیں اور تکفیری گروپوں کو فتنوں کی آگ کے شعلے تیز کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں؛ قبل ازیں وہ اپنے سپاہیوں کو بھجواتے تھے لیکن ان ہی تکفیری ٹولوں کو مسلمانوں کو مٹانے اور نابود کرنے کے لئے استعمال کررہے ہیں۔ انھوں نے کہا: اس وقت ان تکفیریوں کی طرف سے عالم اسلام کو بہت شدید خطرہ لاحق ہے اور ہم اللہ کی بارگاہ میں جوابدہ ہیں اور ہمیں ان تفکرات کے سامنے خاموش نہيں رہنا چـاہئے؛ چنانچہ ہم نے ایک حرکت انجام دینے اور تکفیریوں کا خطرہ گوش گذار کرنے کے بارے میں سوچا اور اسی بنا پر "تکفیری تفکرات کے خطرات" کے عنوان سے اس کانفرنس کا آج آغاز ہوگیا۔  انھوں نے کہا: اسلام دین رحمت ہے اور اس کا آغاز خدا کی رحمانیت اور رحیمیت سے ہوتا اور تکفیریوں نے اس اسلام کی ایسی بھیانک تصویر دنیا والوں کے سامنے پیش کی ہے کہ وہ اسلام سے خوفزدہ ہوجائیں۔  حوزہ کے اس اعلی پائے کے استاد نے کہا: ہمیں پہلے یہ ثابت کرنا پڑے گا یہ یہ لوگ مٹھی بھر ٹولے سے زیادہ کچھ نہیں ہیں اور مسلمانوں کی اکثریت ان کے خلاف ہیں تاکہ دنیا انہيں مسلمانوں اور عالم اسلام سے الگ کردے اور ان کے اعمال کو اسلام کے کھاتے میں نہ ڈالیں۔   آیت اللہ العظمی مکارم نے کہا: یہ افراد کسی پر بھی رحم نہيں کرتے اور بازاروں میں، مساجد میں، اسپتالوں اور دوسرے مقامات پر بےگناہ افراد پر حملے کرتے ہیں اور کوئی بھی ان سے محفوظ نہيں ہے۔ ان لوگوں کی ویڈیو رپورٹیں آپ نے دیکھی ہیں اور ہمارے لئے بھی یہ فلمیں لائی جاتی ہیں۔ وہ مسلمانوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح لٹاتے ہیں اور ذبح کرتے ہیں، مسلمانوں کے سینے چاک کردیتے ہیں اور ان کے دلوں کو دانتوں میں پکڑ لیتے ہیں اور یہ مسائل ذرائع ابلاغ میں نشر کئے جاتے ہیں؛ اور یہ مسائل دین رحمت اور دین مرحمت کو بہت ناخوشگوار طرز پر متعارف کراتے ہیں۔ آیت اللہ العظمی مکارم نے زور دے کر کہا: دنیا کو جان لینا چاہئے کہ اسلام یہ نہیں ہے اور اسلام ان سے مختلف ہے۔ انھوں نے کہا: اسلام نے مطلق بیگانہ لوگوں کے ساتھ رأفت و رحمت کی تلقین کی ہے، ہم ان کے ساتھ سفیروں کا تبادلہ کرتے ہیں، ان کے ہاں ہمارے مفادات کے تحفظ کے دفاتر ہوتے ہیں حالانکہ ان کا کوئی دین نہيں ہے۔ جب اسلام مطلق غیر مسلموں کے بارے میں ایسے احکامات جاری کرتا ہے، وہ کیونکہ خود مسلمانوں کے قتل کا حکم دے سکتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ اسلامی تعلیمات ان مسائل سے متصادم ہیں۔ اس شیعہ مرجع تقلید نے اس قسم کے اقدامات اور تفکرات کی جڑوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: حضرت امیرالمؤمنین (علیہ السلام) فرماتے ہیں: خداوند متعال نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کو مبعوث فرمایا اور جاہلیت کی دنیا کا خاتمہ کیا۔ حالانکہ بعض لوگ اسی جاہلیت اُولیٰ کی طرف لوٹے ہیں اور قرآن فرماتا ہے کہ وہ جاہلیت اُولیٰ ہے اور جاہلیت ثانویہ بھی اس قسم کے تصورات کی ترویج کے ساتھ عنقریب ظہور پذیر ہورہی ہے۔ انھوں نے کہا: اس قسم کے تفکرات کا پہلا سبب یہ ہے کہ یہ گروہ قرآن و سنت سے صحیح تصور نہيں لے سکے ہیں بلکہ ان کے تاثرات اور تصورات غلط ہیں اور توحید اور بدعت جیسے موضوعات میں ان کے تصورات غلط ہیں۔ انھوں نے کہا: ہم تاریخ میں دیکھتے ہيں کہ یہ لوگ کس قسم کی چیزوں کے خلاف بدعت کے نام پر لڑتے رہے ہيں، جو حقیقتا مضحکہ خیز ہے۔ میری رائے یہ ہے کہ اسلام اور قرآن اور سنت و سیرت نبوی(ص) کے سلسلے میں مسلمانوں میں سے زیادہ ناخواندہ اور ان پڑھ افراد یہی ہیں۔ چنانچہ ہمیں ان کے ساتھ گھل ملنا چاہئے اور انہیں صحیح تعلیم دینی چاہئے؛ ہماری کتابیں ان تک پہنچنی چاہئیں۔ ہم نے انہيں دعوت دی ہے کہ وہ آئیں ہمارے پاس لیکن وہ نہيں آتے اور وہ نہيں سیکھنا چاہتے۔ انھوں نے کہا: دوسرا بنیادی سبب یہ ہے کہ وہ اسلامی مذاہب کی صحیح معرفت سے محروم ہیں اور مذاہب کے درمیان تعلق سے ناواقف ہیں اور عام طور پر سنی سنائی باتوں پر ایک دوسرے کے دشمن ہوجاتے ہیں اور کبھی تو جھوٹ اور تہمت ان کی معرفت و شناخت کا سبب ٹہرتی ہے۔ انھوں نے ان کی دینی کتاب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اس کتاب میں اسلامی بحوث ہیں لیکن جب نکاح کا باب آتا ہے تو لکھتے ہیں کہ روافض بھی ان لوگوں میں سے ہیں جن کے ساتھ نکاح حرام ہے۔ کیونکہ وہ نماز کے وقت کہتے ہیں "خان الامین" (یعنی معاذاللہ جبرائیل امین(ع) نے خیانت کی)؛ اور یوں وہ شیعیان آل رسول(ص) کی طرف سے جبرائیل(ع) کو ایک جھوٹی نسبت دیتے ہیں۔ آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی نے کہا: آپ دیکھیں ایک علمی کتاب جس کو چھ علماء نے مل کر لکھا ہے، اس میں یہ جھوٹے مسائل درج ہیں، تو انسان عام لوگوں سے کیا توقع رکھ سکتا ہے؟ انھوں نے کہا: یہ جھوٹ۔ یہ تہمتیں اور یہ تشہری مہم اور پراپیگنڈے اس بات کا سبب بنے ہیں کہ نہ ہم اسلامی مذاہب کو پہچان سکیں اور نہ وہ ہمیں پہچان سکیں، ہمارا سہارا یہ جھوٹی باتیں اور یہ تہمتیں اور یہ پروپیگنڈے کیوں ہوں؟ یہ باطل خیالات عدم شناخت کی وجہ سے وجود میں آتے ہيں جن کی بنا پر وہ سوچتے ہیں کہ اگر وہ فکری اختلاف رکھنے والے چھ سنیوں یا چھ شیعوں کو قتل کریں تو جنت میں داخل ہونگے اور رسول اللہ(ص) انہیں اپنی آغوش میں لیں گے۔ شیعہ مرجع تقلید نے کہا: ان تفکرات کا تیسرا سرچشمہ منتخب شدہ تصورات (Selective Perceptions) ہیں۔ وہ ایک آیت کو اخذ کرتے ہيں اور دوسری آیات کو نظر انداز کرتے ہیں۔ انھوں نے پانچ یا چھ آیات کو منتخب کیا ہے اور باقی کو نظرانداز کرچکے ہيں اور ان ہی آیات کی روشنی میں مسلمانوں کی جان اور ان کے مال کو اپنے لئے حلال کردیتے ہيں اور ان کے گلے کاٹتے ہيں اور سر قلم کرتے ہیں۔  آیت اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی نے کہا: چوتھا سرچشمہ دشمنوں کی سازشیں ہیں۔ وہ دیکھتے ہیں کہ آج کے زمانے میں خطے میں اور دنیا میں بھی اسلام ان کے مفادات کی راہ میں رکاوٹ ہے اور وہ کہتے ہيں کہ اس دین کی بیخ کنی ہونی چاہئے اور بہترین راستہ یہ ہے کہ مسلمانوں کو آپس میں لڑائيں۔ انھوں نے کہا: دشمنان اسلام کہتے ہیں کہ عالم استکبار کے راستے سے اس خطرے کو ہٹانے کا بہترین راستہ یہ ہے کہ مسلمانوں کو ایک دوسرے کے خلاف لڑنے بھڑنے پر آمادہ کیا جائے۔ مجھے امید ہے کہ آج جس پروگرام کا آغاز ہوا ہے یہ اگلے سال منعقدہ کانفرنس کے لئے مفید ہو اور ہم دنیا بھر کے تمام مسلم مفکرین اور دانشوروں کی آراء و نظریات سے مستفید ہوسکیں۔ ..................../٭۔٭